مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک
اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک
میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی
ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک
پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا
بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک
کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر
کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک
یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ
اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک
یہ سارے سخنور مجھے بس غور سے دیکھیں
ہوں میں بھی فصیحائی کا شہکار ، انا الاشک
